20 فروری 2013 - 20:30

حضرت مام محمد تقی الجواد علیہ السلام فرماتے ہیں: جس شخص نے قم میں میری پھوپھی کی زیارت کی اس پر جنت و اجب ہے.

قم میں حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیھا کا روضہ اور ان کی قبر مبارک ، شیعیان اہلبیت علیھم السلام کے دلوں کی قبلہ گاہ اور بیماروں کے لئے دار الشفاء ہے.حضرت معصومہ (س) کا اسم گرامی «فاطمہ» اور بھائی امام علی بن موسی الرضا علیہ السلام کا عطا کردہ مشہور لقب «معصومہ» ہے. آپ کے والد ماجد ساتویں امام حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام اور والدہ ماجدہ جناب نجمہ خاتون ہیں جو کہ آٹھویں امام کی بھی والدہ ہیں چنانچہ حضرت معصومہ(س) اور امام علی بن موسی الرضا(ع) ایک ہی ماں باپ سے ہیں.والد ماجد کی شہادت کے بعد آپ اپنے برادر عزیز امام رضا علیہ السلام کے زیر سایہ رہیں. سنہ ٢٠٠ھ میں خلیفہ وقت مامون عباسی کے اصرار اور دھمکیوں کی وجہ سے امام رضاعلیہ السلام نے تنہا خراسان کے شہر «مرو» (MARV) کی طرف ہجرت کی. اس سفر مین اہلبیت(ع) کا کوئی بھی دوسرا فرد آپ کی ہمراہ نہ تھا.حضرت معصومہ (س) امام رضا علیہ السلام کی ھجرت کے  ایک سال بعد اپنے بھائی کے دیدار اور زینبی رسالت کو ادا کر نے کی نیت سی ولایت کا پیغام لے کر اپنے چند بھائی بھتیجوں کے ساتھ خراسان کی طرف روانہ ہو ئیں. ہر شہر و دیہات میں آپ کا استقبال ہؤا اورآپ نے اپنی جدہ ماجدہ حضرت زینب(س) کی سیرت پر عمل کرتے ہوئے اپنے بھائی کی مظلومیت کو لوگوں کے سامنے بیان کیا اور بنی عباس سرکار کی مکاری اور مکر و فریب کو مسلمانوں کے سامنے بے نقاب کیا؛ اسی لئے جب آپ کا قافلہ شہر ساوہ میں پہنچا تو مامون کی جانب سے مامور افراد آپ کے راستے میں حائل ہو گئے اور جنگ شروع کردی؛ جس کے نتیجے میں قافلہ والون کی اکثریت نی جام شہادت نوش کیا.ایک روایت کے مطابق آپ کو بھی زہر دے دیا گیا. بہر حال حضرت معصومہ (س)بیمار ہوگئیں اور خراسان جانے کا ارادہ ملتوی کرتے ہوئے دریافت کیا کہ قم یہاں سے کتنے فاصلے پر ہے؟ اور فرمایا: ہم کو قم لے چلو اس لئے کہ ہم نے اپنے والد ماجد سے سنا ہے کہ قم ہمارے چاہنے والوں کا مرکز ہے.اہل قم  کو جیسے ہی یہ خبر ملی فوراً آپ (س) کے استقبال کے لئے نکل پڑے. اشعری خاندان کے بزرگ موسیٰ بن خزرج اشعری نے بڑھ کر آپ (ع) کا استقبال کیا. وہ آپ کی اونٹنی کی مہار اپنے کاندھے پر رکھے ہوئے آگے آگے چل رہے تھے اور کجاوے کے ساتھ ساتھ کچھ سوار اور کچھ پیادے آپ (ع) کی ہمراہی کر رہے تھے.آپ نہایت عزت و احترام کے ساتھ ٢٣ربیع الاول 201ھ میں آپ شہر مقدس قم میں داخل ہوئیں؛ اس کے بعد آپ کی اونٹنی موسیٰ بن خزرج کے گھر کے سامنے بیٹھ گئی. یہ جگہ آج «میدان میر» کے نام سے جانی پہچانی جاتی ہے.موسیٰ بن خزرج کو آپ کی میزبانی نصیب ہوئی. سترہ روز تک آپ کا قیام اس مقام پر رہا اور ان ایام میں آپ راز ونیاز پروردگار میں مشغول رہیں. آپ کی عبادت گاہ مدرسہ ستیہ بیت النور کے نام سے آپ کے چاہنے والوں کی زیارتگاہ بنی ہو ئی ہے.بہر حال آپ (س) کو اپنے بھائی کا دیدار نصیب نہ ہوا اور 10 ربیع الثانی یا 12 ربیع الثانی ۲۰۰ھ، کو اس دنیا سے انتقال کر گئیں اور شیعیان آل محمد (ص) کو اپنے غم میں سوگوار اور عزادار کردیا.آپ (س) کو باغ بابلان (جس جگہ آج آپ (س) کا حرم ہے) میں دفن کیا گیا.جب آپ (س) کی قبر تیار ہوئی تو یہ مسئلہ کھڑا ہوگیا کہ آپ کے جسم اطہر کو قبر میں کون  اتارے گا؟.اہل قم سوچ ہی رہے تھے کہ اچانک دو نقاب پوش سوار قبلہ کی جانب سے آتے ہو ئے دکھائی دیئے. سوار جلد ہی نزدیک آکر گھوڑوں سے اترے ان میں سے ایک نے نماز جنازہ پڑھائی اورنمازکے بعد ایک نقاب پوش بزرگ قبر میں اترا اور دوسرے بزرگ نے جنازہ اٹھا کر اس کے ہاتھوں میں دے دیا تا کہ آپ (ر) سپرد لحد کر سکے. وہ دونوں سوار تدفین کے بعد اپنے گھوڑوں پر سوار ہو کر اسی سمت میں چلے گئے جہاں سے آئے تھے.بعض علماء کا کہنا ہے کہ وہ دونوں سوار دونوں حجت خدا امام علی بن موسی الرضا (ع) اور امام محمد تقی الجواد (ع) تھے اس لئے کہ غالبا بزرگ شخصیتوں کی تدفین اولیائے خدا کے توسط سے ہی انجام پاتی ہے.آج حضرت معصومہ (س)کا روضۂ مبارک اور آپ (س) کی قبر شیعیان اہل بیت علیہم السلام کے دلوں کی قبلہ گاہ اور بیماروں کے لئے دار الشفاء ہے.

.......

/169